حزب الشیطان گروہ کون ہے؟

۱۵ ستمبر ۲۰۲۶ از Aamiz

پاکستان میں سامنے آنے والی فحش توہین کی منظم لہر کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے حزب الشیطان کو سمجھنا ضروری ہے۔ یہ محض چند افراد کا سوشل میڈیا گروپ نہیں بلکہ ایک ایسا منظم شیطانی نیٹ ورک ہے جس نے فحش توہین کو باقاعدہ نظریاتی، تنظیمی اور مذہبی قالب دینے کی کوشش کی ہے۔

حزب الشیطان کا خود ساختہ مکمل مذہبی نظام

اس گروہ کی سب سے غیر معمولی خصوصیت یہ ہے کہ اس نے اپنے لیے ایک مکمل خود ساختہ مذہبی نظام تشکیل دیا۔ مسلمانوں کے ہاں عبادت اللہ تعالیٰ کی ہے، جبکہ یہ شیطان کو اپنا رب قرار دیتے ہیں۔ مسلمانوں کا کلمہ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ﷺ ہے، جبکہ ان کی اپنی دستاویز فرامینِ اجنبی میں ان کا خود ساختہ کلمہ “لا الٰہ الا الشیطان، اجنبی رسول الشیطان” درج ہے۔

اس کلمے میں لفظ “اجنبی” سے مراد ان کا خود ساختہ مذہبی پیشوا ہے، جو اپنے آپ کو شیطان کا رسول قرار دیتا ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ اسے شیطان کی طرف سے وحی ہوتی ہے اور اس کی جانب سے کی جانے والی توہینات بھی اسی نام نہاد وحی کا حصہ ہیں۔

اسی طرح جس طرح مسلمانوں کے پاس قرآن مجید بطور الہامی کتاب موجود ہے، اس گروہ نے اپنی ایک کتاب شریعت اجنبی یا فرامینِ اجنبی کے نام سے ترتیب دے رکھی ہے۔ اس میں انتہائی فحش توہینات، ان کے خود ساختہ مذہبی تصورات اور اس نظام کے مختلف احکامات درج ہیں۔ اسی مواد سے نئی توہینات اخذ کی جاتی ہیں اور اسی سے متاثر ہو کر مزید توہین آمیز مواد تخلیق کیا جاتا ہے۔

حزب الشیطان کیسے کام کرتی ہے؟

حزب الشیطان سوشل میڈیا پر ایک ہی نام سے کام نہیں کرتا۔ مختلف ادوار میں مختلف ناموں، گروپس اور برانڈز کے ذریعے اس کا مواد پھیلایا گیا۔ اس نیٹ ورک کا دائرہ اب محض چند خفیہ گروپس تک محدود نہیں رہا بلکہ پاکستان میں اس سے منسلک افراد کی تعداد ہزاروں تک پہنچ چکی ہے۔

اس مسئلے کے حجم کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے علم میں ایسے کئی لاکھ سوشل میڈیا لنکس آئے اور ان میں سے ایک لاکھ دس ہزار سے زائد لنکس ہٹائے گئے۔ یہ وہ مواد تھا جس کے ذریعے مقدسات کی توہین پھیلائی جا رہی تھی۔ اسی منظم مسئلے کی موجودگی کی تصدیق ریاستی سطح پر انفارمیشن بورڈ اور وزارت اطلاعات و نشریات کے ریکارڈ میں بھی سامنے آ چکی ہے۔

سرگرمیوں کی تبلیغ اور فروغ کا طریقہ کار

لیکن حزب الشیطان کو سمجھنے کے لیے صرف اس کے توہین آمیز مواد کو دیکھنا کافی نہیں۔ اس کی باقاعدہ ممبرشپ، اندرونی قواعد اور تربیتی طریقۂ کار بھی موجود ہے۔ ابتدا میں نئے افراد کو مختلف طریقوں سے گروپس میں لایا جاتا ہے، پھر رفتہ رفتہ انہیں مخصوص سرگرمیوں میں شامل کیا جاتا ہے، ٹاسک دیے جاتے ہیں اور گروپ میں برقرار رہنے کے لیے طے شدہ قواعد پر عمل کروایا جاتا ہے۔ یوں فحش توہین یہاں محض انفرادی بدعملی نہیں رہتی بلکہ ایک منظم نظریاتی سرگرمی کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

اس گروہ کا بنیادی مقصد پاکستان میں اس شیطانی نظریے کی ترویج، مقدسات کی منظم توہین اور زیادہ سے زیادہ افراد کو اپنے نیٹ ورک میں شامل کرنا ہے۔

تفصیلی ویڈیو سیریز پر مبنی گفتگو یہاں دستیاب ہے۔

یہ حزب الشیطان کا محض ابتدائی تعارف ہے۔

آئندہ مضامین میں ہم تفصیل سے دیکھیں گے کہ اس گروہ کا تنظیمی نظام کیسے کام کرتا ہے، افراد کو کس طریقے سے شامل کیا جاتا ہے، انہیں کیا ٹاسک دیے جاتے ہیں، سوشل میڈیا پر اس کے مختلف چہرے کون سے ہیں، اور سب سے اہم یہ کہ یہ نیٹ ورک صرف عوامی سطح تک محدود نہیں رہا بلکہ پاکستان کے متعدد اداروں کے اندر بھی اپنی جڑیں قائم کر چکا ہے۔