پچھلے چند دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک انتہائی جذباتی پروپیگنڈا شدت کے ساتھ چلایا جا رہا ہے جس میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ توہینِ مذہب کے مقدمے میں عمر قید پانے والا مجرم عبدالحنان بے قصور ہے، اسے کسی سازش کے تحت ٹریپ کرکے پھنسایا گیا ہے، اور اس کے خلاف پیش کی جانے والی فرانزک رپورٹس اور عدالتی فیصلے کو بھی مشکوک بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔لیکن زمینی حقائق کیا ہیں؟ یہ حقیقت جاننے کے لیے ہم نے عبدالحنان کی والدہ سے رابطہ کیا، آج ہم ان کا موقف بھی آپ کے سامنے رکھیں گے، اور ساتھ ہی اس کیس کا مکمل پس منظر اور عدالتی ریکارڈ بھی پیش کریں گے۔
عبدالحنان کیس کا پس منظر
اس مقدمے کی جوایف آئی آر ہے اسکا نمبر (117/2022) ہے۔ اس کیس کا آغاز اصل میں مجرم جنید منیر جو عبدالحنان کا ہمراہی ملزم ہے اور جس کو توہین مذہب کے مقدمے میں سزائے موت ہو چکی ہے، اس کی تفتیش سے ہوا۔ تفتیش کے دوران ملزم نے انکشاف کیا کہ اس گھناؤننے فعل میں اس کے ساتھ دیگر دو افراد جن میں ایک نام حنان کا تھا، وہ بھی ملوث ہے۔ اب اس کیس میں کوئی مدعی نہیں ہے عبدالحنان پکڑا ہی اپنے ہمراہی ملزم کے بیان اور ڈیجیٹل لنکنگ کی وجہ سے گیا، جس سے یہ دعویٰ سرے سے غلط ہو جاتا ہے کہ اسے کسی بلاسفیمس انٹریپمنٹ کا نشانہ بنایا گیا۔
گرفتاری کے بعد دوران تفتیش ایف آئ اے کی ٹیکنیکل رپوٹ کے مطابق عبدالحنان توہین قرآن، توہین مذہب ، توہین صحابہ اکرام ، توہین اہل بیعت اور توہین امہات المومنین پر مبنی گستاخانہ مواد بذریعہ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز شئیر کرتا پایا گیا اور بعد ازاں فرانزک رپورٹ میں بھی ثابت ہو گیا کہ فحش اور انتہائی مذہبی گستاخانہ مواد مختلف گروپس میں ملزمان دیگر ارکان کے ذریعے شیئر اور وصول کیا جاتا۔

عدالتی ریکارڈ
عدالت نے بھی اپنے فیصلے میں اس امر کو انتہائی وضاحت کے ساتھ بیان کیا کہ کس قدر گھناؤنا اور فحش توہین آمیز مواد شیئر کیا گیا۔ عدالت نےفرانزک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ دستاویز اس بات کا واضح اور کتابی ثبوت ہے کہ ملزم عبدالحنان نے کس قدر سنگین اور ناقابلِ معافی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ شفاف طریقے سے سامنے لائے جانے والے ان شواہد کے بعد ملزم کی نفسیات، اس کے جنسی رجحانات اور اسلامی اقدار کے تئیں اس کی شدید نفرت پر ذرہ برابر بھی شک باقی نہیں رہتا۔
عدالت نے ملزم کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا کہ اسے ایف آئی اے کے ساتھ مل کر جھوٹے کیس میں پھنسایا گیا ہے. عدالت کا کہنا ہے کہ اگر زبانی گواہی کو بالکل نظر انداز بھی کر دیا جائے، تب بھی فرانزک اور ٹیکنکل رپورٹس کی شکل میں موجود ٹھوس دستاویزی شواہد ملزم عبدالحنان کو اس جرم میں مکمل طور پر ملوث ثابت کرتے ہیں. استغاثہ نے بغیر کسی شک و شبہ کے اپنا کیس ثابت کر دیا ہے اور ان مضبوط شواہد کو جھٹلانے کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔
اور پھر اسی ٹھوس عدالتی و تکنیکی بنیاد پر عبدالحنان کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔
عبدالحنان کی والدہ کا موقف
جب اس حوالے سے ہم نے عبدالحنان کی والدہ صاحبہ سے رابطہ کیا اور ان سے حقائق پر بات کی گئی، تو کئی اہم پہلو سامنے آئے والدہ نے خود اس بات کا اعتراف کیا کہ انہوں نے آج تک نہ تو مقدمے کی فائل دیکھی ہے، نہ ایف آئی آر پڑھی ہے اور نہ ہی فرانزک رپورٹ کا مطالعہ کیا ہے۔ انہیں یہ تک معلوم نہیں کہ اس رپورٹ میں کس نوعیت کا مواد موجود ہے۔
جب والدہ سے مزید پوچھا گیا کہ آپ کیا سمجھتی ہیں آپکا بیٹا بے قصور ہے؟ تو انہوں نے موقف اپنایا کی ان کے بیٹے کو ٹریپ کیا گیا لیکن وہ کوئی واضح اور مدلل جواب نہ دے سکیں اور کہا کہ جیسے باقی بچوں کو ٹریپ کیا ویسے ہی میرے بیٹے کو ٹریپ کیا گیا، حالانکہ عدالتی ریکارڈ میں اس طرح کی کسی انٹریپمنٹ کا کوئی ایک ثبوت بھی ملزمان بشمول عبدالحنان کے، کسی طرف سے نہیں دیا گیا۔
کیونکہ اب ان کیسز میں بلاسفیمی بزنس گینگ کا ذکر کیا جاتا ہے جو پیسے مانگتا ہے، تو جب عبدالحنان کی والدہ سے یہی سوال کیا گیا کہ کیا کسی بیرونی فرد نے ان سے کس بھی قسم کے ریلیف کے بدلے پیسے مانگے، تو انہوں نے صاف انکار کیا اور کہا کہ کسی بھی بیرونی فریق کی طرف سے ان سے کبھی رقم کا مطالبہ نہیں کیا گیا، البتہ انہوں نے اپنے ہی ایک سابق وکیل پر رقوم بٹورنے کا الزام ضرور عائد کیا۔ اور کہا کہ اس وکیل کے علاوہ کسی اور نے ان سے پیسوں کا مطالبہ نہیں کیا۔
اب یہاں سب سے بنیادی اور بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ملزم اور اس کی فیملی یہ سمجھتی ہے کہ وہ بے گناہ ہے اور فرانزک شواہد جعلی ہیں، تو پھر دفاعی وکیل، خود ملزم یا اسکی فیملی نے آج تک اس فرانزک رپورٹ کو باقاعدہ قانونی اور تکنیکی بنیادوں پر عدالت میں چیلنج کیوں نہیں کیا؟
جب یہی سوال عبدالحنان کی والدہ سے کیا گیا تو انہوں نے ایک بار پھر اعتراف کیا کہ چونکہ انہوں نے کبھی مقدمے کی فائل یا فرانزک رپورٹ کا مطالعہ ہی نہیں کیا، اس لیے وہ اسے چیلنج کرنے سے قاصر ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پیشہ ور دفاعی وکلاء یا خود ملزم عبدالحنان نے کبھی اس کا قانونی دفاع کرنے کی کوشش کی؟ جواب ہے ہرگز نہیں۔
ری فرانزک کا سوال
اصولی طور پر، اگر ڈیجیٹل شواہد غلط تھے یا ڈیٹا میں کوئی جعل سازی کی گئی تھی، تو اس کا سب سے بہترین اور فول پروف دفاع یہ ہونا چاہیے تھا کہ ملزم اپنی پسند کی کسی مستند پرائیویٹ لیبارٹری سے اپنے فون اور ڈیجیٹل مواد کا دوبارہ ری فرانزک کرواتا۔ اور اگر سچائی ان کے حق میں ہوتی تو وہ عدالت میں ثابت کی جا سکتی تھی، اور ابھی بھی کی جا سکتی ہے۔ لیکن فرانزک کو مشکوک بنانے کے لیے اس کے خلاف بات تو کی جاتی ہے مگر مگر ری فرانزک سے ہمیشہ راہ فرار اختیار کی جاتی ہے۔
اب عبدالحنان ملزم نہیں بلکہ سزا یافتہ مجرم ہے کیونکہ عدالتیں محض جذبات پر نہیں بلکہ ٹھوس شواہد پر فیصلیں کرتیں ہیں۔
اصل اور بنیادی سوال بدستور اپنی جگہ قائم ہے۔ اگر مجرم عبدالحنان، اس کی فیملی، اس کے وکلاء اور سوشل میڈیا پر اسے بے قصور قرار دینے والے تمام حامی واقعی اسے معصوم سمجھتے ہیں، تو کیا وہ فون کی دوبارہ ری فرانزک کروانے کے لیے تیار ہیں؟ اگر نہیں، تو پھر اس فرانزک رپورٹ سے انکار کی کیا بنیاد بچتی ہے؟