پاکستان میں فحش توہینِ مذہب کے مقدمات کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ہفتہ، 17 اکتوبر 2026 کو لاہور کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کی جانب سے درج کیے گئے توہینِ مذہب کے مقدمے ایف آئی آر نمبر 104/22 کا فیصلہ سنایا۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نصرت علی صدیقی ملک نے قرار دیا کہ استغاثہ نے ملزمان کے خلاف تمام الزامات ہر قسم کے شک و شبہے سے بالاتر ہو کر ثابت کیے ہیں۔ عدالت نے چار ملزمان محمد شعیب سرور، ارسلان اکرم، ثاقب علی اور حسن رضا کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ دو سو پچانوے (سی) کے تحت سزائے موت اور ہر ایک کو 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔
انہیں دفعہ دو سو پچانوے-بی کے تحت عمر قید کی سزا بھی سنائی گئی، جبکہ دفعہ دو سو پچانوے-اے، دو سو اٹھانوے-اے اور پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پی ای سی اے) کے تحت مزید قید اور جرمانوں کی سزائیں بھی دی گئیں۔
سزائے موت لاہور ہائی کورٹ کی توثیق سے مشروط ہے، جس کے لیے ریفرنس ہائی کورٹ کو بھجوایا جائے گا۔ مجرموں کو 30 دن کے اندر اپیل کا حق حاصل ہے۔
طیب بن عارف اور کیس کا پس منظر
یہ مقدمہ ایک شہری کی جانب سے درج کرائی گئی شکایت سے شروع ہوا، جس میں “قرآنی تعلیم” کے نام سے بنائے گئے ایک واٹس ایپ گروپ کے حوالے سے بتایا گیا کہ مختلف موبائل نمبروں کے ذریعے گروپ میں انتہائی قابلِ اعتراض اور گستاخانہ مواد پھیلایا جا رہا تھا۔ ایف آئی اے کی تکنیکی رپورٹ کے ذریعے ایک نمبر کو ٹریس کیا گیا۔ 24 مئی 2022 کو ایف آئی اے کی ٹیم نے لاہور میں طیب بن عارف کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا۔ چھاپے کے دوران ایک لیپ ٹاپ اور دو موبائل فونز برآمد کیے گئے۔
ان آلات کے فرانزک معائنے سے ثابت ہوا کہ فیس بک اور واٹس ایپ گروپس کے ذریعے قرآنِ مجید اور مقدس اسلامی ہستیوں کے خلاف انتہائی توہین آمیز مواد شیئر کیا جا رہا تھا۔
گینگ کا سرغنہ طیب بن عارف اشتہاری اور مفرور قرار
ایف آئی آر نمبر 104/22 کا ایک اہم پہلو اس مقدمے میں طیب بن عارف کی مرکزی ملزم کے طور پر شمولیت ہے۔ مقدمے میں بیان کردہ عدالتی ریکارڈ کے مطابق طیب بن عارف کو اشتہاری اور مفرور (پروکلیمڈ آفینڈر) قراردیا جا چکا ہے۔ عدالتی نتائج میں طیب بن عارف کو منظم گستاخ گروہ کے بڑے رہنماؤں میں سے ایک اور “حزب الشیطان” نامی گروہ کا سرغنہ قرار دیا گیا ہے۔ اس نے ابلیس کی جانب سے شیطان کا نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس کے گروہ نے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سرگرم رہتے ہوئے درج ذیل نوعیت کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا مواد میں ذکر کیا گیا ہے
حضرت محمد ﷺ کی توہینِ رسالت
اسلام کی توہین
قرآنِ مجید کی توہین
اہلِ بیت کی توہین
امہات المؤمنین کی توہین
صحابہ کرام کی توہین
طیب بن عارف نے جعلی مچلکوں کے ذریعے ضمانت حاصل کی اور بعد ازاں پاکستان سے فرار ہوگیا ، جبکہ اس کے چار ساتھیوں کو عدالت نے سزائے موت سنا دی ہے۔
وزارتِ مذہبی امور، ایف آئی اے اور پی ٹی اے: اہم اعداد و شمار
سرکاری اور تحقیقاتی اداروں کی رپورٹس کو منظم نیٹ ورک کے حجم کے ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ وزارتِ مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں توہین آمیز مواد پھیلانے میں ملوث 4 لاکھ سے زائد سوشل میڈیا اکاؤنٹس بے نقاب کیے جا چکے ہیں۔ ایف آئی اے نے بھی اس تعداد کی تصدیق کی ہے۔ وزارت کے مطابق مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور گروپس پر منظم انداز میں مقدس شخصیات کے خلاف مواد شیئر کیا جا رہا تھا۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے پشاور ہائی کورٹ کو آگاہ کیا کہ قابلِ اعتراض اور فحش مواد کی نشاندہی کے بعد اب تک 10 لاکھ 70 ہزار ویب لنکس بلاک کیے جا چکے ہیں۔ پشاور ہائی کورٹ میں دائر ایک درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ پی ٹی اے اور دیگر متعلقہ اداروں کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر موجود توہین آمیز لنکس بلاک کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔ مواد میں لاہور ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے تفصیلی فیصلوں کو بھی نمایاں کیا گیا ہے، جن میں ججز نے اس نیٹ ورک کے حوالے سے سخت ریمارکس اور ہدایات جاری کیں۔
ایف آئی اے کی سرکاری دستاویزات کے مطابق سوشل میڈیا پر توہینِ قرآنِ مجید اور توہینِ مذہب کے حوالے سے پنجاب قرآن بورڈ کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کے بعد متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ملزمان کے اکاؤنٹس کو تحویل میں لے کر قانونی کارروائی شروع کی گئی۔
لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ اور سندھ ہائی کورٹ کی ہدایت
چھ مارچ 2025 کو لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس چوہدری عبدالعزیز نے عمر نواز اور دیگر بمقابلہ ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے اور دیگر کے مقدمے میں تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔ یہ مقدمہ سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد، مذہبی منافرت اور مقدس شخصیات کے خلاف قابلِ اعتراض مواد کے خلاف قانونی کارروائی کے مطالبات سے متعلق تھا۔ فیصلے کے مطابق پی ٹی اے اور ایف آئی اے کے حکام عدالت میں پیش ہوئے اور تصدیق کی کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بڑے پیمانے پر مذہبی نفرت انگیز اور توہین آمیز مواد اپ لوڈ کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
مواد میں جسٹس چوہدری عبدالعزیز کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اسلام اور دیگر مذاہب کو نشانہ بنانے والی سوشل میڈیا پوسٹس میں موجود نفرت انگیز مواد اس قدر اشتعال انگیز تھا کہ اس کی تفصیلات فوری فیصلے میں بھی قلمبند نہیں کی جا سکتی تھیں۔ لاہور ہائی کورٹ کے سامنے اس معاملے سے نمٹنے کے لیے 10 وفاقی اور 5 صوبائی اداروں پر مشتمل ایک جامع ایکشن پلان بھی پیش کیا گیا۔
سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عمر سیال کے تفصیلی فیصلے کا بھی مواد میں ذکر کیا گیا ہے۔ فیصلے کے مطابق اکٹھا کیے گئے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سرگرمی کسی ایک فرد تک محدود نہیں تھی بلکہ اس کے پیچھے ایک پورا گروہ موجود تھا۔ فیصلے میں وسیع تر نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ معاملے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے جسٹس عمر سیال نے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے، ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) اور ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلی جنس کو ہدایت کی کہ قومی سلامتی اور منظم جرم کے تناظر میں پورے نیٹ ورک کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے۔
مفرور گینگ سرغنہ طیب بن عارف کی گرفتاری کا مطالبہ
لاہور کی عدالت کی جانب سے فحش توہینِ مذہب کے مقدمے میں چار ملزمان کو سزائے موت سنائے جانے کے فیصلے کا مذہبی علما، دینی و سماجی حلقوں اور عوام کی جانب سے خیرمقدم کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کو سوشل میڈیا کے ذریعے توہین آمیز مواد پھیلانے کی منظم سرگرمی کے خلاف ایک اہم پیش رفت اور لاکھوں مسلمانوں کے لیے اطمینان کا باعث قرار دیا گیا ہے۔ تاہم، فیصلے کے خیرمقدم کے ساتھ ساتھ مذہبی علما اور عوام نے حکومتِ پاکستان اور ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ طیب بن عارف، جسے عدالتی نتائج میں گروہ کا اہم رہنما اور شیطان کی نبوت کا دعویدار قرار دیا گیا ہے، کو کھلا نہ چھوڑا جائے۔
طیب بن عارف نے جعلی مچلکوں کے ذریعے ضمانت حاصل کرکے ملک سے فرار اختیار کیا۔
حکومتِ پاکستان کو چاہیے کہ اپنے ریاستی اور سفارتی وسائل کے ساتھ ساتھ انٹرپول کے ذرائع استعمال کرتے ہوئے اسے فوری طور پر گرفتار کرکے پاکستان واپس لائے۔ اس مطالبے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ طیب بن عارف کو بھی اپنے ان چار ساتھیوں کی طرح مقدمے کے قانونی نتائج کا سامنا کرنا چاہیے، جنہیں عدالت نے سزائے موت سنائی ہے۔